500-005 pdf 640-875 pdf 700-505 640-878 pdf 600-199 pdf 400-351 pdf 101-400dump 300-320 pdf 210-065 pdf 70-480 pdf CCA-500 pdf 70-410exam 1Z0-060 pdf N10-006 pdf PK0-003 pdf 300-207 pdf 70-412exam pdf

“Two Hands” by Ismat Chughtai

Previously I wrote about Progressive writer Ismat Chughtai (1915 – 1991) and talked about her life. Ismat Chughtai’s short story, “Do Hath” or “Two Hands,” lampoons society’s nonsensical rules which exploit, hurt, and shame poor people who have little power to fight the social systems that control them. Yet these powerless people are the backbone of the very world which controls and exploits them. Poor people like the servants in the story do not have a right to dignity, as per the dictates of society. They cannot afford dignity; they literally do not have enough money to live honorably. But paradoxically, they make the supposedly “honorable” and rich people’s lifestyles possible. They make the world go round.

The story centers around a household probably very much like the one in which Ismat Chughtai grew up. The family is rich and has a large retinue of servants. The main character is an old sweeper woman who has worked for the family for forty years. Her son Ram Avtar has recently married a woman named Gori, but then he goes off to war. Also, as a note, Ram Avtar’s name refers to the incarnation of the god Ram and Gori’s name could refer to the goddess Parvati or Durga. I have provided an Urdu transcription of the story as well as my own translation. Read the story to see what drama ensues!

دو ہاتھ

عصمت چغتائی

رام اوتار لام پر سے واپس آ رہا تھا۔ بوڑھی مہترانی ابا میاں سے چھٹی پڑھوانے آئی تھی۔ رام اوتار کو چھٹی مل گئی۔ جنگ ختم ہو گئی تھی نا! اس لئے رام اوتار تین سال بعد واپس آ رہا تھا۔ بوڑھی مہترانی کی آنکھوں میں آنسو ٹمٹما رہے تھے، مارے شکر گزاری کے وہ دوڑ دوڑ کر سب کے پائوں چھو رہی تھی۔ جیسے ان پیروں کے مالکوں نے ہی اس کا اکلوتا پوت لام سے زندو سلامت منگوا لیا۔

بڑھیا پچاس پرس کی ہوگی، پر ستر کی معلوم ہوتی تھی۔ دس بارہ بچے جنے۔ ان میں سے بس رام اوتاروا بڑی منتوں، مُرادوں سے جیا تھا۔ ابھی اس کی شادی رچائے سال بھر بھی نہیں بیتا تھا کہ رام اوتار کی پکار آ گئی۔ مہترانی نے بہت واویلا مچایا۔ مگر اس کی کچھ نہ چلی اور جب رام اوتار وردی پہن کر آخری بار اس کے پیر چھونے آیا تو اس کی شان و شوکت سے بے انتہا مرعوب ہوئی۔ جیسے وہ کرنل ہو گیا ہو۔

شاگرد پیشے میں نوکر مسکرا رہے تھے۔ رام اوتار کے آنے کے بعد جو ڈرامہ ہونے کی امید تھی سب اسی پر آس لگائے بیٹھے تھے حلانکہ رام اوتار لام پر توپ بندوق چھوڑنے نہیں گیا تھا۔ وہ وہاں پر مہتر تھا۔ یہ کام کرتے کرتے اس میں بھی کچھ سپاہیانہ آن بان اور اکڑ پیدا ہو گئی ہوگی۔ بھوری وردی ڈانٹ کر وہ پرانا رام اوتار وا واقعی نہ رہا ہوگا۔ نا ممکن ہے کہ وہ گوری کے کرتوت سنے اور اس کا جوان خون ہتک سے نہ کھول اٹھے۔

بیاہ کر آئی تھی تو کیا مسمسی تھی گوری۔ جب تک رام اوتار رہا اس کا گھونگھٹ فٹ لمبا رہا اور کسی نے اس کے رخ پر نور کا جلوہ نہ دیکھا۔ جب خصم گیا تو کیا بلک بلک کر روئی تھی۔ جیسے اس کی مانگ کا سیندور ہمیشہ کے لئے اڑ رہا ہو۔ تھوڑے دن روئی روئی آنکھیں لئے، سر جھکائے اپنا کام کیا کرتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے گھونگھٹ کی لمبائی کم ہونے لگی۔

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ گوری تھی ہی خراب۔ رام اوتار کے جاتے ہی قیامت ہو گئی۔ کمبخت ہر وقت ہی ہی ہر وقت اٹھلانا۔ کمر پر ٹوکری لے کر کانسے کے کڑے چھنکاتی جدھر سے نکل جاتی لوگ بد حواس ہو جاتے۔ دھوبی، باورچی، بہشتی، اور چپراسی سبھی اس کے یکساں دیوانے تھے۔ نام کی گوری تھی پر کمبخت سیاہ بہت تھی۔ چوڑی ناک، پھیلا ہوا دہانہ، دانت مانجھے کا اس کی سات پشتوں نے فیشن ہی چھوڑ دیا تھا۔ آنکھوں میں پلیوں کا جل تھوپنے کے بعد بھی دائیں آنکھ کا بھینگاپن اوجھل نہ ہو سکا۔ پھر بھی ٹیڑھی آنکھ سے نہ جانے کیسے زہر میں بجھے تیر پھینکتی تھی کہ نشانے پر بیٹھ ہی جاتے تھے۔ کمر بھی لچک دار نہ تھی۔ خاصی کٹھلا سی تھی۔ جھوٹن کھا کھا کر دنبہ ہو رہی تھی۔ چوڑے بھینس کے سے کھر۔ جدھر سے نکل جاتی کڑوے تیل کی سڑاند چھوڑ جاتی۔ ہاں آواز میں بلا کی کوک تھی۔ تیج تیوہار پر لہک لہک کر کجریاں گاتی تھی۔

بوڑھی مہترانی یعنی اس کی ساس بیٹے کے جاتے ہی اس سے بے انتہا بد گمان ہو گئی۔ بیٹھے بٹھائے احتیاطاً گالیاں دے دیتی۔ اس پر نظر رکھنے کے لئے پیچھے پیچھے پھرتی۔ مگر پڑھیا اب ٹوٹ چکی تھی چالیس سال سے لگاتار کام کر رہی تھی۔ ہمارے گھر کی پرانی مہترانی تھی اس لئے گھر میں اس کی کافی بزرگانہ حیثیت تھی۔

اتنی لاڈلی مہترانی کی بہو یکایک لوگوں کی آنکھوں کا کانٹا بن گئے۔ چپراسن اور باورچن کی بات اور تھی، ہماری اچھی بھلی بھاوجوں کا ماتھا اسے اٹھلاتے دیکھ کر ٹھنک جاتا۔ گوری کیا تھی بس ایک مرکھنا لمبے لمبے سینگوں والا بجار تھا جو کہ چھوٹا پھرتا تھا۔ اور جب حالات نے نازک صورت پکڑ لی تو شاگرد پیشے کی عورتیوں کا ایک با قاعدہ وفد اماں کے دربار میں حاضر ہوا۔ بڑے زور و شور سے خطرہ اور اس کے خوف ناک نتائج پر بحث ہوئی۔ ساری خواتین حسبِ مراتب زمین پیڑھیوں اور پلنگ کی ادوائن پر بیٹھیں۔ پان کے ٹکڑے تقسیم ہوئے اور بڑھیا کو بلایا گیا۔

“کیوں ری چڑیل! تو نے بہو قطامہ کو چھوٹ دے رکھی ہے ہماری چھاتی پہ کودنے کی ارادہ کیا ہے تیرا۔ کیا مہھ کالا کرائے گی؟”

مہترانی تو بھری ہی بیٹھی تھی۔ پھوٹ پڑی۔ “کیا کروں بیگم صاحب حرام کھور کو چار چوٹ کی مار دیئی مے تو۔۔۔ روٹی بھی کھانے کونا دیئی۔ پر رانڈ میرے تو بس کی نہیں۔”

“ارے روٹی کی کمی ہے اسے؟” باورچن کے اینٹا پھینکا۔

بیگم صاحب آپ جیسی بتائو ویسے کرنے سے موئے نا تھوریئی۔ پر کا کروں کا رانڈ کا ٹینٹوا دبائے دیوں۔۔۔”

ٹینٹوا دبانے کے حسین خیال سے مہیلائوں میں مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی اور سب کو بڑھیا سے بے انتہا ہمدردی پیدا ہو گئی۔

اماں نے رائے دی “موئی کو میکے پھنکوا دے۔”

اے بیگم صاحب کہیں ایسا ہو سکے ہے؟” مہترانی نے بتایا کہ بہو مفت ہاتھ نہیں آئی ہے ساری عمر کی کمائی پورے دو سو جھونکے ہیں تب مسٹنڈی ہاتھ آئی ہے۔ دو ہاتھ والی ہے پر چار آدمیوں کا کام نپٹاتی ہے۔ رام اوتار کے جانے کے بعد بڑھیا سے اتنا کام کیا سنبھلتا یہ بڑھاپا تو اب بہو کے دو ہاتھوں کے صدقے میں بیت رہا تھا۔ تو معاملہ اب اخلاقیات سے اقتصادیات پر آ گیا تھا۔ واقعی بہو کا وجود مہترانی کے لئے لازمی تھا۔ پھر بھی اماں نے الٹی میٹم دے دیا کہ اگر اس لُچی کا جلد از جلد کوئی انتظام نہ کیا گیا تو کوٹھی کے احاطہ میں نہیں رہنے دیا جائیگا۔”

بڑھیا نے بہت واویلا مچایا۔ اور گھر جا کر بہو کو منھ بھر بھر کے گالیاں دیں۔ جھونٹے پکڑ کر مارا پیٹا بھی۔ مگر دو چار دن کے بعد بوڑھیا مہترانی کے دیور کا لڑکا رتی رام اپنی تائی سے ملنے آیا اور پھر وہیں رہ پڑا۔ دو چار کوٹھیوں میں کام بڑھ گیا تھا سو بھی اس نے سنبھال لیا۔ اپنے گائوں میں آوارہ ہی تو گھومتا تھا۔

رتی رام کے آتے ہی موسم ایک دم لوٹ پوٹ کر بالکل ہی بدل گیا۔ بہو کا گھونگھٹ جھولتے جھولتے نیچے بڑھنے لگا۔ اب وہ بجائے بے نتھا بیل کے نہایت شرمیلی بہو بن گئی۔ دوسری عورتوں نے اطمینان کی سانس لی۔ اسٹاف کے مرد اسے چھیڑتے بھی تو وہ لجا جاتی یا پھر رتی رام کی طرف دیکھتی جو فوراً بازو کھجلاتا سامنے ڈٹ جاتا۔ بڑھیا پرسکون انداز میں دہلیز پر بیٹھی گڑگڑی پیا کرتی۔

لیکن اب بہو کے خلاف ایک نیا محاذ قائم ہو گیا۔ اور وہ عملے کی مرد جاتی پر مشتمل تھا۔ بات بات پر باورچی، دھوبی، اور بھشتی وغیرہ اسے ڈانٹنے لگے۔ مگر بہو سر جھکائے چُپ چاپ ڈانٹ پھٹکار سنا کرتی۔ نہ جانے ساس سے کیا کہہ دیتی کہ وہ کائیں کائیں کر کے سب کا بھیجا چاٹ جاتی۔ اب اس کی نظر میں بہو نہایت پارسا اور نیک ہو چکی تھی۔

پھر ایک دن داڑھی والے دروغہ جو تمام نوکروں کے سردار تھے ابا کے حضور میں دست بستہ حاضر ہوئے اور اس بھیانک بدمعاشی اور غلاظت کا رونا رونے لگے جو بہو اور رتی رام کے نا جائز تعلقات سے سارے شاگرد پیشے کو گندہ کر رہی تھی۔ ابا نے معاملہ اماں کو سونپ دیا۔ مہیلائوں کی سبھا پھر سجی اور بڑھیا کو بلا کر اس کے لتے لئے گئے۔

“اری نگوڑی خبر بھی ہے یہ تیری بہو قطامہ کیا گُل کھلا رہی ہے؟”

مہترانی نے ایسے چندھرا کر دیکھا جیسے کچھ نہیں سمجھتی غریب کہ کس کا ذکر ہو رہا ہے۔ اور جب اسے صاف صاف بتایا گیا کہ چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ بہو اور رتی رام کے تعلقات نا زیبا حد تک خراب ہو چکے ہیں تو بڑھیا بجائے اپنی بہتری چاہنے والوں کا شکریہ ادا کرنے کے بہت چراغ ہوئی کہ سب اس کی معصوم بہو پر الزام لگاتے ہیں۔ آخر بڑھیا اور اس کی معصوم بہو نے لوگوں کا کیا بگاڑا ہے۔ وہ تو سب کی رازدار ہے۔ آج تک اس نے کسی کا بھانڈا نہیں پھوڑا۔ پھر کچھ دن کے لئے بہو کے عشق کا چرچا کم ہونے لگا۔ لوگ کچھ بھولنے لگے۔ مگر تاڑنے والوں نے تاڑ لیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ بھلی بیویوں نے اسے بہت سمجھایا۔ رتی رام کا منھ کالا کر۔ اور اس سے پہلے کہ رام اوتار لوٹ کر آئے بہو کا علاج کروا ڈال۔ وہ خود اس فن میں ماہر تھی۔

اب پڑھیا کو رام اوتار وا کے آنے کا انتظار تھا۔ ہر وقت دھمکیاں دیتی رہتی تھی۔ “آن دے رام اوتار وا کا کہاں گی۔۔۔ توری ہڈی پسلی ایک کر دہیئے۔” اور اب رام اوتار وا لام سے زندہ واپس آ رہا تھا۔ فضا نے سانس روک لی تھی۔ لوگ ایک مہیب ہنگامے کے منتظر تھے۔ مگر لوگوں کو سخت کوفت ہوئی جب بہو نے لڑکا جنا۔ بجائے اسے زہر دینے کے بڑھیا کی مارے خوشی کے بانچھیں کھل گئیں۔ رام اوتار کے جانے کے دو سال بعد پوتا ہونے پر قطعی متعجب نہ تھی۔ اس کا بھلا چاہنے والوں نے اسے حساب لگا کر بہت سمجھایا کہ یہ لڑکا رام اوتار کا ہو ہی نہیں سکتا مگر بڑھیا نے قطعی نہ سمجھا۔ لونڈا پیدا ہوا تو اس نے رام اوتار کو چھٹی لکھوائی۔ کہ تمہارے گھر پوت پیدا ہوا ہے سوئم اس خط کو تار سمجھو اور جلدی سے آ جائو۔ لوگ سمجھتے تھے کہ رام اوتار ضرور چراغ پا ہوگا۔ مگر سب کی امیدوں پر اس پر گئی جب رام اوتار کا مسرت سے لبریز خط آیا کہ وہ آ رہا ہے۔ لونڈا سال بھر کا ہوگا جب رام اوتار لونڈے کو دیکھ کر ایسے شرمانے لگا کیسے وہی اس کا باپ ہو۔ جھٹ پٹ اس نے صندوق کھول کر سامان نکالنا شروع کیا لوگ سمجھے کہ چاقو نکال رہا ہے۔ مگر جب اس نے اس میں سے لال بنیائن اور پیلے موزے نکالے تو سارے عملے کی قوتِ مردانہ پر ضرب کاری لگی۔ اور بہو! نئی نویلی دلہن کی طرح سمٹی سمٹائی بیٹھی تھی۔ لوگوں نے اسے سمجھایا۔ پھبتیاں کسیں، اسے “گائو دی” کہا۔ مگر وہ کھیسیں کاڑھے ہنستا رہا۔ جیسے اس کی سمجھ میں کچھ نہ آ رہا ہو۔ رتی رام اپنے گائوں واپس جا چکا تھا۔

رام اوتار کی اس حرکت پر تعجب سے زیادہ لوگوں کو غصہ آیا۔ ہمارے ابا جو عام طور پر نوکروں کی باتوں میں دلچسپی نہیں لیا کرتے تھے وہ بھی ناراض تھے۔ اپنی ساری قانون دانی کا دائو لگا کر رام اوتار کو قائل کرنے پر تُل گئے۔

“کیوں بے، تو تین سال بعد لوٹا ہے نا؟”

“معلوم نہیں حجور، تھوڑا کم جیادہ۔ اتا ہی رہا ہوگا۔”

“اور تیرا لونڈا سال بھر کا ہے۔”

“اتا ہی لگے ہے سرکار۔ پر بڑا بدماس ہے سسر۔” رام اوتار شرمائے۔

“ابے تو حساب لگا لے۔”

“حساب؟۔۔۔ کیا لگائوں سرکار۔ بھگوان کی دین ہے۔”

“بھگوان کی دین! تیرا سر۔۔۔ یہ لونڈا تیرا نہیں ہو سکتا۔” ابا نے اسے چاروں اور سے گھر کر قائل کرنا چاہا کہ لونڈا حرامی ہے۔ تو وہ کچھ کچھ قائل سا ہو گیا۔

پھر مری ہوئی آواز میں احمقوں کی طرح بولا۔ “تو اب کا کروں سرکار۔۔۔ حرامجادی کو میں نے بڑی مار دی۔” وہ غصے سے بھپر کر بولا۔

“ابے نِرا الّو کا پٹّھا ہے تو۔۔۔ نکال باہر کیوں نہیں کرتا کمبخت کو۔”

“نہیں سرکار، کہیں ایسا ہوئے سکے ہے۔” رام اوتار گھگیانے لگا۔

“کیوں بے۔۔۔؟”

“حجور ڈھائی تین سو پھر دوسری سگائی لے لئے کاں سے لائوں گا؟”

“مگر لونڈا تیرا نہیں ہے رام اوتار۔۔۔ اُس حرامی رتی رام کا ہے۔” ابا نے عاجز آ کر سمجھایا۔

“تو کا ہوا سرکار۔۔۔ میرا بھائی ہوتا ہے رتی رام۔ کوئی گیر نہیں۔ اپنا کھون ہے۔”

“نِرا الّو کا پٹّھا ہے۔۔۔” ابا بھنا اُٹھے۔

“سرکار لونڈا بڑا ہو جاوے گا، اپنا کام سمیٹے گا۔” رام اوتار نے گڑگڑا کر سمجھایا۔ “وہ دو ہاتھ لگائے گا، سو اپنا بڑھاپا پار ہو جائے گا۔” ندامت سے رام اوتار کا سر جھک گیا۔ اور نہ جانے کیوں، ایک دم رام اوتار کے ساتھ ابا کا سر بھی جھک گیا جیسے ان کے ذہن پر لاکھوں کروٹوں ہاتھ چھا گئے۔ یہ ہاتھ حرامی ہیں نہ حلالی۔ یہ تو بس جیتے جاگتے ہاتھ ہیں جو دنیا کے چہرے سے غلاظت دھو رہے ہیں۔ اس کے بڑھا پے کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ یہ ننھے مُنے مٹی میں لتھڑے ہوئے سیاہ ہاتھ دھرتی کی مانگ میں سیندور سجا رہے ہیں۔

Two Hands

by Ismat Chughtai

Ram Avtar was coming back from the war. The old sweeper woman had come to Papa to have him read a letter to her. She had gotten a letter from Ram Avtar. The war was over, remember! That was why Ram Avtar was coming back after three years. The old sweeper woman’s eyes moistened with tears. She began running around and touching everyone’s feet to show her thankfulness as if her masters’ feet themselves had ordered that her only child be returned to her safely from war.

The old woman must have been fifty years old, but she looked seventy. She had given birth to ten or twelve children. Out of all of them only Ram Avtar had survived, due to her many hopes and prayers. An entire year hadn’t even passed since his marriage when Ram Avtar was summoned. The old sweeper woman wailed and wailed. But this didn’t stop anything and when Ram Avtar put on his uniform and came to touch her feet for the last time, she was extremely impressed by his splendor. It was as if he had become a colonel.

The servants were laughing in the servants’ quarter. They were excited for the drama that would happen after Ram Avtar came back; everyone was waiting and hoping for it although Ram Avtar hadn’t been deployed to use cannons and guns. He was a sweeper there. After doing this work for a while, he started to act with soldierly pomp and attitude. When he put his brown uniform, dear Ram Avtar really wasn’t there at all anymore. It’s impossible that he could have heard about Gori’s bad deeds and his young blood would not have boiled immediately with shame.

She had come after the marriage, Miss Gori. As long as Ram Avtar was around, her veil stayed long and no one even got a glimpse of light on her face. When her husband left, she wept and cried bitterly, as if the sinduur in the part of her hair, that sacred mark of marriage, had been wiped away forever. She kept crying for a few days, hung her head, and kept doing her work. Then the length of her veil slowly slowly started to get shorter.

Some people said that Gori was just bad. As soon as Ram Avtar left, it was as if Doomsday fell. Every second the damned woman was giggling and strutting her stuff. When she leaned a basket on her waist, she would jingle her bronze bangles; wherever she went people went out of their senses. The washerman, the cook, the water carrier, and the clerk, all of them at once were crazy for her. Her name was Gori, “white,” but the damned woman was very black. She had a broad nose, a shapeless mouth, and teeth which looked like she hadn’t brushed them for seven generations. Even when she daubed her right eye with water from a ladle, that eye’s squint did not disappear. I don’t know how she shot forth poisoned arrows from that crooked eye which hit their target perfectly. Her waist was not flexible either, in fact it was like some old granny’s. She was becoming a fat-tailed sheep from eating all the leftover food. Her broad feet were like buffalo hooves. Wherever she went, she left the smell of rotten mustard oil. Oh yes, her voice was a calamitous shriek. On the Tiij Festival she sang country bumpkin songs from her hometown.

The old sweeper woman, that is to say, Gori’s mother-in-law, became extremely suspicious as soon as her son left. She would swear at her as a precaution for hardly any reason. She would run around and follow her to keep an eye on her. But the old woman was out of energy, as she had been working continuously for forty years. She had been the sweeper at our house for a long time, that’s why she got a lot of respect.

All of a sudden the daughter-in-law of the dear old sweeper woman came a thorn in everybody’s side. The clerk’s wife and the cook’s wife’s issue was just the beginning; my virtuous and good sister-in-laws were filled with forebodings of evil as they watched her flaunt herself. Gori was nothing but a bull with long horns for goring who strolled around sight seeing. And when the situation got really bad, a formal delegation of women from the servants’ quarters were summoned to Mother’s royal court. A raucous and noisy debate going on about this danger and its terrifying consequences. All the women sat according to their status, some on the ground, others on small stools, and a few on the edge of beds. Pieces of paan were distributed and then the old woman was called forward.

“So, you witch! You’re letting your whore of a daughter-in-law do whatever she wants to me, what the hell do you want. You want her to disgrace us all?”

The old sweeper woman was so enraged that she was at the point of weeping. She exploded. “What can I do, Marm, I’ve beat th’ bitch black and blue, that rotten little… I even make ‘er eat bread in the corner. But I can’t control that whore.”

“Oh, so you think she has any lack of bread?” The cook’s wife threw a pebble.

“Marm, your Highness, please tell me exactly what you want me to do to that good-for-nothing wretch, oh for shame. What, c’n I do, what, I’ll strangle ‘er…”

A wave of happiness spread over women as they reflected on the thought of strangling her and all of them felt compassion for the old woman.

Mother gave her opinion. “Send the bitch back to her mother’s house.”

“Oh, Madam, your Highness, if only that was possible.” The sweeper woman told them that the daughter-in-law had not come empty handed, she had brought her entire life’s earnings, a whole 200, and she was strong to boot. She could do the work of four men. After Ram Avtar left, she helped her mother-in-law so much that now the old woman’s life was spent being helped by the gift of her daughter-in-law’s hands. So it was not so much a moral matter as it was an economic one. In fact, her daughter-in-law’s presence was necessary for the old woman. Still Mother gave an ultimatum. “If arrangements for that slut are not made as soon as possible, even the local brothel won’t let her stay there.”

The old woman started sobbed loudly. And when she got home, she heaped curses on her daughter-in-law. She grabbed her by her braid and beat her soundly. But after a few days, the old sweeper woman’s son-in-law Rati Ram came to visit his aunt and stayed with the old sweeper woman and Gori. He had enough time to work in several houses while he was there. Back in his own village, he just loitered around.

As soon as Rati Ram came, the weather completely changed immediately. The daughter-in-law’s veil began to swing back and forth, lengthening. Now instead of acting like an unbridled bull, she became quite shy. The other women breathed sighs of relief. Even when the male staff teased her, she got embarrassed and looked at Rati Ram who immediately would scratch his arm. The old woman peacefully sat on her doorstep, gurgling on her huqqa.

But now there was a new attack against the daughter-in-law and this matter involved men. The cook, washerman, water carrier, and the others would yell at her for any reason. But the daughter-in-law would hang her head quietly and listen to their scolding. I don’t know if she told her mother-in-law, but she would sit there and let them insult her. In her mother-in-law’s view, now she had already become extremely pious and virtuous.

Then one day the bearded inspector who was the head of all of the servants approached Father with folded hands and started to complain of the frightening mischief and filth namely that the daughter-in-law and Rati Ram were soiling the servants’ quarters with their illicit relations. Father turned this matter over to Mother. The assembly of women gathered and the old woman was called forward once again.

“Oh, you miserable nitwit, did you get the news that your whore daughter-in-law is opening up her legs again?”

The sweeper woman looked so confused as if she did not understand at all, the poor thing, who was being mentioned. And when she was clearly told that an eyewitness had said Rati Ram and the daughter-in-law’s relations had reached an unsuitable point, instead of thanking her comrades the old woman became enraged that they were accusing her innocent daughter-in-law. At last the old woman and innocent daughter-in-law got fed up with everyone. They were faithful to everyone. To this day they had never let anyone’s cat out of the bag. But after a few days, people stopped gossiping about the daughter-in-law’s love life. Everyone started to forget about it. But the skeptics were guessing that something was was fishy and told the sweeper woman that she should do something about her daughter-in-law before Ram Avtar got home. She was an expert at it, after all.

The old woman was waiting for dear Ram Avtar to come home. Every moment she would threaten her daughter-in-law. “Wait until dear Ram Avtar comes, what’re ya gonna say? He gonna crush ya bones and ribs together into one.” And Ram Avtar came back alive from war. The atmosphere stopped people’s breaths. People awaited the grim catastrophe. But they were horrified when the daughter-in-law gave birth to a boy. Instead of poisoning her, the old woman could not stop smiling on account of her happiness. It was not strange to her that two years after Ram Avtar had left, a son was born. Everyone who wanted good for the old woman did the math for her and tried to explain that it was impossible that this son was Ram Avtar’s but the old woman did not understand at all. It was a baby boy, so she had a letter written to Ram Avtar saying, “You have a baby boy, understand this letter, and come home quickly.” People thought that Ram Avtar would be furious. But everyone’s hopes were dashed when Ram Avtar sent a letter which brimmed with happiness and said that he was on his way. The boy must have been a year old when Ram Avtar saw him for the first time and he was so shy as if he was the real father. He immediately opened a box and started to take out something. People thought that he was taking out a knife, but he pulled out a little red undershirt and tiny yellow socks. His manly strength must have been deeply hurt by all these actions. And the daughter-in-law! She sat modestly, as if she was a newly married bride. People explained, made fun, called her, “Gori the Hick,” but Ram Avtar just grinned and laughed as if he had no idea what was going on. Then Rati Ram came back from his village.

More people were furious with with Rati Ram’s shenanigans rather than surprised. My father who usually took no interest in the servants’ affairs was outraged. He applied all of his legal knowledge and was determined to get Ram Avtar to admit the truth.

“Hey man, so you’ve returned after three years, right?”

“Dunno, sir, more’r less. Mus’ be right.”

“And your son is one year old.”

“I guess, mister, but he’s real mischivus, sir,” said Ram Avtar shyly.

“Come on, man, do the math!”

“Math?… What math… he’s a gift from the Lord.”

“Gift from the Lord! My foot… the boy cannot be yours!” Father surrounded him from all directions, wanting to make him confess that this child was a bastard. He did seem like he was going to admit it.

Then in a dead voice he said like a fool, “Well, now what c’n I do, sir… I ahready beat that daughter of a whore,” he spoke angrily, flaring up.

“C’mon, you idiot son of an owl… why don’t you kick that damned woman out.”

“No, mister, how can I do that,” faltered Ram Avtar.

“Why not….?”

“Sir, who’s going to pay the 250 to 300 rupees for the new engagement?”

“But that kid isn’t yours, Ram Avtar… He’s that bastard Rati Ram’s,” Father explained, getting frustrated.

“Well, what c’n I do, sir,  he’s like my brother, Rati Ram. ‘S not like he’s a stranger. I mean we’re from the same blood.”

“You idiot son of an owl…” Father was really mad.

“Sir, when the boy grows up, he’ll do his work,” Ram Avtar explained, with a strangled voice. “He’ll use his two hands, an’ when I’m old he’ll help me get through old age.” Ram Avtar hung his head with regret. And I don’t know why, but all of a sudden, Father hung his head, too, as if a million hands were twisting and turning in his mind. This was not a bastard hand or a legitimate one. This was just a living, breathing hand which was washing the filth from the face of the world. It was lifting the burden of old age. These black hands dragged through bits of mud were decorating the Earth’s parted hair with a muddy sinduur.

No comments yet.

Leave a Reply