500-005 pdf 640-875 pdf 700-505 640-878 pdf 600-199 pdf 400-351 pdf 101-400dump 300-320 pdf 210-065 pdf 70-480 pdf CCA-500 pdf 70-410exam 1Z0-060 pdf N10-006 pdf PK0-003 pdf 300-207 pdf 70-412exam pdf

“The Two Furlong Length Road” by Krishan Chander

Last week I wrote about the Urdu-language writer Krishan Chander who was one of the staunchest supporters of the Progressive Writers’ Movement, a literary movement in India in the early 20th century that focused on the struggle for freedom against British imperialism as well as the pain and struggle of common workers. The organization was strongly influenced by socialism and communism; many Progressive writers admired the Russian revolutionaries and hoped Indians would rise up in a similar way as Russians had against the Tsars. Krishan Chander was not only influenced by these philosophies of the Progressive Movement but also by Romanticism’s love of nature and emphasis on emotion. Romanticism’s depiction of the common man and revolution also ties in with Progressive ideals.

This particular short story, “Do Furlaang Lambi Sarak,” or “The Two Furlong Length Road,” exhibits Krishan Chander’s Romantic and Progressive leanings. Without the aid of a traditional plot, Chander narrates his experiences and thoughts while traveling back and forth on a quarter mile long road over nine years. I have provided the Urdu original which I found on the Urdu Youth Forum as well as my own translation of the story. Enjoy!

دو فرلانگ لمبی سڑک

کرشن چندر

کچہریوں سے لے کر کالج تک بس یہی کوئی دو فرلانگ لمبی سڑک ہوگی۔ ہر روز مجھے اسی سڑک پر سے کذرنا ہوتا ہے۔ کبھی پیدل، کبھی سائیکل پر سڑک کے دو رویہ شیشم کے سوکھے اداس سے درخت کھڑے ہیں۔ ان میں نہ حسن ہے نہ چھائوں، سخت کھردرے تنے اور ٹہنیوں پر گِدھوں کے جھنڈ سڑک صاف، سیدھی اور سخت ہے۔ متواتر نو سال سے میں اس پر چل رہا ہوں۔ نہ اس پر کبھی کوئی گڑھا دیکھا، نہ شگاف۔ سخت سخت پتھروں کو کوٹ کوٹ کر یہ سڑک تیار کی گئی ہے اور اس پر کول تار بھی بچھی ہے، جس کی عجیب سی بو گرمیوں میں طبعیت کو اور بھی پریشان کر دیتی ہے۔ سڑکیں تو میں نے بہت سی دیکھی بھالی ہیں۔ لمبی لمبی چوڑی چوڑی سڑکیں جن کے گرد سرو و شمشاد کے درخت کھڑے تھے سڑکیں۔ مگر نام گنانے سے کیا فائدہ۔ اس طرح تو ان گنت سڑکیں دیکھی ہوں گی۔ لیکن جتنی اچھی طرح میں اس سڑک کو جانتا ہوں، کسی اپنے گہرے دوست بھی اتنی اچھی طرح نہیں جانتا۔ متواتر نو سال سے اسے جانتا ہوں اور ہر صبح اپنے گھر سے جو کچہریوں کے قریب ہے اٹھ کر دفتر جاتا ہوں، جولاء کالج کے پاس واقع ہے۔ بس یہی دو فرلانگ کی سڑک ہر صبح اور شام کچہریں سے لے کر لار کالج کے آخری دروازے تک کبھی سائیکل پر کبھی پیدل، اس کا رنگ کبھی نہیں بدلتا، اس کی ہئیٹ میں تبدیلی نہیں آتی۔ اس کی صورت میں روکھاپن بدستور موجہد ہے۔ جیسے کہہ رہی ہو۔ مجھے کسی کی کیا پروا ہے اور یہ ہے بھی میچ۔ اسے کسی کی پروا کیوں؟ سیکڑوں ہزاروں انسان گھوڑے، گاڑیاں موٹریں اس پر سے ہر روز گذر جاتی ہیں اور پیچھے کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔ اس کی ہلکی نیلی اور سانولی سطح اسی طرح سخت اور سنگلاخ ہے جیسے پہلے روز تھی۔ جب ایک یوریشین ٹھیکہ دار نے اسے بنایا تھا۔

یہ کیا سوچتی ہے، شاید یہ سوچتی ہی نہیں۔ میرے سامنے ہی ان نو سالوں میں اس نے کیا کیا واقعات، حادثات دیکھے ہر روز ہر لمحے کیا کیا نئے تماشے نہیں دیکھتی لیکن کسی نے اسے مسکراتے نہیں دیکھا، نہ روتے ہی اس کی پتھریلی چھاتی میں کبھی ایک درد بھی پیدا نہیں ہوا۔

ہائے بابو اندھے، غریب، فقیر پر ترس کر جائو۔ ارے بابا، اے بابو، اے بابو، خدا کے لئے ایک پیسہ دیتے جائو، ارے بابا، ارے کوئی بھگوان کا پیارا نہیں، صاحب جی، میرے ننھے ننھے بچّے بلک رہے ہیں اور کوئی تو ترس کھائو ان یتیموں پر۔

بیسوں گدا گراس اس سڑک کے کنارے بیٹھے ہیں۔ کوئی اندھا ہے تو کوئی لنجا کسی کی ٹانگ پر ایک خطرناک زخم ہے، کوئی غریب دو تین چھوٹے چھوٹے بچّے گود میں لئے حسرت بھری نگاہوں سے راہ گیروں کی طرف دیکھتی جاتی ہے۔ کوئی پیسہ دے دیتا ہے، کوئی تیوری چڑھائے گذر جاتا ہے۔ کوئی گالیاں دے رہا ہے، حرام زادے، مسٹنڈے، کام نہیں کرتے بھیک مانگتے ہیں۔

کام۔۔۔ بے کاری۔۔۔ بھیک۔ دو لڑکے سائیکل پر سوار ہنسنتے ہوے جا رہے ہیں۔ ایک بوڑھا امیر آدمی اپنی شاندار فٹن میں بیٹھا سڑک پر بیٹھی ہوئی بھکارن کی طرف دیکھ رہا ہے اور اپنی انگلیوں سے مونچھ کو تائو دے رہا ہے۔ ایک سست و مضمحل کتّا فٹن کی پہیوں تلے آ گیا ہے۔ اس کی پسلی کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ لہو بہہ رہا ہے اس کی آنکھوں کی افسردگی بے چارگی، اس کی ہلکی ہلکی دردناک ٹیائوں ٹیائوں کسی کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی۔ بوڑھا آدمی اب گدیوں پر جھکا ہوا اس عورت کی طرف دیکھ رہا ہے جو ایک خوش نما سیاہ رنگ کی ساڑی زیبِ تن کئے اپنے نوکر کے ساتھ مسکراتی ہوئی باتیں کرتی جا رہی ہیں۔ اس کی سیاہ ساڑی کانفرئی حادشیہ بوڑھے کی حریص آنکھوں میں چاند کی کرن کی طرح چمک رہا ہے۔

پھر کبھی سڑک سنسان ہوتی ہے۔ صرف ایک جگہ شیشم کے درخت کے چھدری چھائوں میں ایک تانگے والا گھوڑے کو سستا رہا ہے۔ گدھ دھوپ میں ٹہنیوں پر بیٹھے اونچھ رہے۔ پولیس کا سپاہی آتا ہے، ایک زور کی سیٹی۔ اور تانگے والے یہاں کھڑا کیا کر رہا ہے؟ کیا نام ہے تیرا۔ کر دوں چالان! ہجور۔ ہجور کا بچہ! چل تھانے، ہجور؟ یہ تھوڑا ہے۔ اچھا جا، تجھے معاف کیا۔ تانگے والا تانگے کو سر پٹ دوڑائے جا رہا ہے راستے میں ایک گورا آ رہا ہے، سر پر ٹیڑھی ٹوپی، ہاتھ میں بید کی چھتری، رخساروں پر پسینہ لبوں پر کسی ڈانس کا سر، کھڑا کر دو کنٹونمنٹ۔

آٹھ آنے صاحب۔

ول، چھ آنے۔

نہیں صاحب۔ کیا بکتا ہے تم۔۔۔

تانگے والے کو مارتے مارتے بید کی چھتری ٹوٹ جاتی ہے، پھر تانگے والے کا چمڑے کا ہنٹر کام آتا ہے، لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں پولیس کا سپاہی بھی پہنچ گیا ہے۔ حرام زادے، حرام زادے، صاحب بہادر سے معافی مانگو، تانگے والا اپنی میل پگڑی کے گوشے سے آنسو پہنچھ رہا ہے۔ لوگ منتشر ہو جاتے ہیں۔ اب سڑک پھر سنسان ہے۔

شام کے دھندلکے میں بجلی کے قمقمے روشن ہو گئے ہیں میں نے دیکھا کہ کچہریوں کے قریب چند مزدور بال بکھرے، میلے لباس پہنے باتیں کر رہے ہیں۔ بھیا، بھرتی ہو گیا؟

ہاں، تنخواہ تو اچھی ملتی ہوگی؟

ہاں، بڑھئو کے لئے کما لائے گا، پہلی بیوی تو ایک ہی پھٹی ساڑی میں رہتی تھی۔

سنا ہے، جنگ شروع ہونے والی ہے۔ کب شروع ہوگی۔ کب! اس کا تو پتہ نہیں مگر گریب ہی مارے جامیں گے۔ کون جانے کہ گریب مارے جامیں گے کہ امیر۔ ننھا کیسا ہے؟

بخار نہیں ٹلتا، کیا کریں ادھر جیب میں پیسے نہیں، ادھر حکیم سے دوا، بھرتی ہو جائو، سونج رہے ہیں۔ رام رام۔

پھٹی ہوئی دھوتیاں، ننگے پائوں تھکے ہوئے قدم، یہ کیسے لوگ ہیں؟ یہ نہ تو آزادی چاہتے ہیں، نہ حیرت یہ کیسی عجیب باتیں ہیں، پیٹ، بھوک، بیماری، بیسے، حکیم کی دوا، جنگ۔

قمقموں کی زرد زرد روشنی سڑک پر پڑ رہی ہے۔ دو عورتیں ایک بوڑھی ایک جوان اپلوں کے ٹوکرے اٹھائے خچروں کی طرح ہانپتی ہوئی گذر رہی ہیں۔ جوان عورت کی چال تیز ہے۔ بیٹی ذرا ٹھہرو تو۔ بوڑھی عورت کے چہرے پر بے شمار جھڑیاں ہیں۔ اس کی چال مدھم ہے، اس کے لہجے میں بے کسی ہے۔ بیٹی ذرا ٹھہر، میں تھک گئی میرے ﷲ!

اماں، ابھی گھر جا کر روٹی پکاتی ہے۔ تو تو بائولی ہے!

اچھا بیٹی۔ اچھا بیٹی۔ بورھی عورت جوان عورت کے پیچھے بھاگتی ہوئی جا رہی ہے۔ بوجھ کے مارے اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ اس کے پائوں ڈگمگا رہے ہیں۔ وہ مدت سے اس سڑک پر چل رہی ہے۔ اپلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے۔ کوئی اس کا بوجھ ہلکا نہیں کرتا۔ کوئی اسے ایک لمحہ سستانے نہیں دیتا۔ وہ بھاگی ہوئی جا رہی ہے۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ اس کے پائوں ڈگمگا رہے ہیں۔ اس کی جھڑیوں میں غم ہے اور بھوک۔ فکر اور غلامی صدیوں کی غلامی۔ تین چار نوخیز لڑیاں بھڑکیلی ساڑیاں پہنے، باہوں میں باہیں ڈالے جا رہی ہیں۔

بہن! آج شملہ پہاڑی کی سیر کریں۔ نہیں، آج لارنس گارڈن چلیں۔

نہیں، آج انارکلی۔ ریگل۔ شٹ آپ یو فول۔

آج سڑک پر سرخ حلوان بچھا ہے۔ آر پار جھنڈیاں لگی ہوئی ہیں، جا بجا پولیس کے سپاہی کھڑے ہیں کسی بڑے آدمی کی آمد ہے، اسکول کے چھوٹے چھٹے لڑکے نیلی پگڑیاں باندھے، سڑک پر دو رویہ قطاروں میں کھڑے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں ہیں۔ ان کے لبوں پر پیپریاں جم گئی ہیں۔ ان کے چہرے دھوپ کی شدت سے تمتما اٹھے ہیں، اسی طرح کھڑے کھڑے وہ ڈیڑھ کھنٹہ سے بڑے آدمی کا انتظارکر رہے ہیں۔ جب وہ پہلے پہل یہاں سڑک پر کھڑے ہوئے تھے تو ہنس ہنس کرباتیں کر رہے تھے۔ اب سب چپ ہیں۔ چند لڑکے ایک درخت کی چھائوں میں بیٹھ گئے تھے۔ اب انہیں کان سے پکڑ کر اٹھا رہے ہیں۔ شفیع لی پگڑی کھل گئی تھی۔ استاد اسے گھور کر کہہ رہا ہے۔ او شفیع! پگڑی ٹھیک کر۔ پیارے لال کی شلوار اس کے پائوں میں اٹک گئی ہے اور ازار بند جوتوں تک لٹک رہا ہے۔ تمہیں کتنی پار سمجھایا، پیارے لال۔ ماسٹر جی پانی۔ پانی کہاں سے لائوں۔ یہ بھی تم نے اپنا گھر سمجھ رکھا ہے۔ دو تین منٹ اور انتظار کرو، بس ابھی چھٹی ہوا چاہتی ہیں۔

دو منٹ۔ تین منٹ۔ آدھ گھنٹہ۔

ماسٹر جی! پانی۔

ماسٹر جی بڑی پیاس لگی۔

لیکن استاد اب اس طرف متوجہ نہیں ہوتے۔  ادھر ادھر دوڑتے پھر رہے ہیں۔ لڑکوں ہوشیار ہو جائو۔ دیکھو جھنڈیاں اس طرح ہلانا ابے تیری جھنڈی کہاں ہے۔ قطار سے باہر ہو جائو، بدمعاش کہیں کا۔ سواری آ رہی ہے۔ موٹر سائیکل کی پھٹ ُپھٹ، بینڈ کا شور، پتلی اور چھوٹی جھنڈیاں بے دلی سے ہلتی ہوئی۔ سوکھے ہوئے گلوں سے پژمردہ نعرے۔ بڑا آدمی سڑک سے گذر گیا۔ لڑکوں کی جان میں جان آ گئی۔ اب وہ اچھل اچھل کر جھنڈیاں توڑ رہے ہے، شور مچا رہے ہیں۔ خوانچے والے کی صدائیں۔ ریوڑیاں۔ گرم گرم چنے۔ حلوا پوری۔ نان۔ کباب۔ ایک خوانچے والا ایک طرے والے بابو سے جھگڑے کر رہا ہے۔ مگر آپ نے میرا خوانچہ الٹ دیا۔ میں آپ کو نہیں جانے دوں گا۔ میرا تین روپئے کا تقصان ہو گیا۔ میں غریب آدمی ہوں میرا نقصان پورا کر دیجیئے تو میں جانے دوں گا۔ صبح کی ہلکی ہلکی روشنی میں بھنگی سڑک پر جھاڑو دئیے جا رہا ہے۔ میونسپلٹی کا پانی والا چکڑا آہستہ آہستہ سڑک پر چھڑکائو کر رہا ہے۔ چکڑے کے آگے جوتے ہوئے دہ بیلوں کی گردنوں پر ذخم پیدا ہو گئے ہیں۔ چھکڑے والا سردی سے ٹھٹھرتا ہوا کوئی گیت گانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیلوں کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ ابھی سڑک کا کتنا حصّہ باقی ہے۔ سڑک کے کنارے ایک بوڑھا گدا گرم پڑا ہے۔ اس کے میلے دانت ہونٹوں کے اندر دھُنس گئے ہیں۔ اس کی کھلی ہوئی بے نور آنکھیں آسمان کی طرف تک رہی ہیں۔

خدا کے لئے مجھ غریب پر ترس کر جائو۔ اے بابا۔ کوئی کس پر ترس نہیں کرتا۔ سڑک خاموش اور سنسان ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتی ہے، سنتی ہے۔ مگر ٹس سے مس نہیں ہوتی ان لوگوں کے دل کی طرح بےرحم، بے حسن، اور وحشی۔

انتہائی غیظ و غضب کی حالت میں اکثر میں سوچتا ہوں کہ اگر اسے ڈائنامائیٹ لگا کر اڑا دیا جائے تو پھر کیا ہو۔ ایک بلند دھماکے کے ساتھ اس کے ٹکڑے فضا میں پرواز کرتے نظر آئیں گے۔ اس وقت مجھے کتنی مسرت ہوگی، اس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ کبھی کبھی اس کی سطح پر چلتے چلتے میں پاگل سا ہو جاتا ہوں۔ جاہتا ہوں کہ اس دم کپڑے پھاڑکر ننگا سڑک پر ناچنے لوگوں اور چلا چلا کر کہوں۔ میں انسان نہیں ہوں میں پاگل ہوں، مجھے انسانوں سے نفرت ہے، مجھے پاگل خانے میں کی غلامی بخش دو۔۔۔ میں آج سڑکوں کی آزادی نہیں چاہتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سڑک خاموش ہے اور سنسان

بلند ٹہنیوں پر گدھ میٹھے اونگھ رہے ہیں

یہ دو فرلاند لمبی سڑک!!

The Two Furlong Length Road

by Krishan Chander

Translated by Elin Nelson

The same old two furlong length road goes from the courthouse to the college. I go back and forth on this road every day, sometimes on foot, sometimes on bicycle. On both sides of the road stand two types of dried up, sad sheesham trees. They are neither beautiful nor give shade, their trunks are quite splintered, and on the branches are clumps of vultures. The road is clean, straight, and harsh. I have been walking on this road continuously for nine years. I’ve never seen a single hole or crack. The road has been well-maintained from passersby pounding its rocks over and over and from being coated with coal tar which gives off a strange odor in the summer, upsetting the stomach. I’ve seen lots of good roads. Long, wide roads rimmed by upright cedar and shamshaad trees. Roads. But what’s the point of singing their praises. I’ve seen countless roads like those ones. But I don’t think anyone knows their best friend as well as I know this particular road. After all I’ve known it for nine continuous years and every morning get up and leave my house which is close to the courthouse in order to get to my office which is located by Lar College. I go on this particular two-furlong length road which stretches from the courthouses to the last door of Lar College, sometimes on foot, sometimes on bicycle, its color never changes, nor does its height vary. Its complexion is usually dry, as if it is saying, “Why should I care about anyone, I feel like I’m dead.” Why should anyone care? Hundreds, maybe thousands of people, horses, cars, motorcycles pass by on this road every day and leave no trace behind them. Its light blue and wheat-colored expanse is just as stony as it was its first day when a Eurasian contractor built it.

What does it think, perhaps it doesn’t think anything at all. During my nine years of commuting by this road, it must have seen so many events and incidents, what kinds of new spectacles every day every moment could it have not seen! But no one ever saw it smiling nor weeping. No compassion or pain ever pierced its stony breast.

Have pity, mister, us blind, poor, beggars, have mercy on us!  Oh mister, oh, not everyone is dear to God, sir, please, my little children are weeping and someone have pity on these fatherless children.

Scores of beggars are sitting on the grass at the edge of the road. One is blind, another has no hands, yet another had oozing frightening wounds on his legs. One poor woman has two or three children in her lap and keeps looking at passersby with needy gazes. Someone gives her money, another scowls at her, someone else swears at her. Bitch, you look strong, why don’t you work, can’t believe you beg.

Work… uselessness… begging. Two boys on a bicycle drive by laughing. An old rich man seated in his splendid phaeton stares at the woman beggar while curling his mustache with his fingers. A sleepy and feeble dog comes to rest beneath the wheels of the phaeton. His ribs are broken. Blood is spilling, his eyes fill with numbness and helplessness, his fading yelps are filled with pain – no one can pay any attention. Now the old man bends down on his cushions to stare at a woman who is wearing a beautiful black sari and is smiling and talking with her servant. The old man looks at the edge of her sari with avaricious eyes, as if it is glittering moonlight.

Sometimes the road is desolate. There is a lone cart driver letting his horse rest in the dappled shade of a sheesham tree. Vultures sit on its branches and doze off in the sun. A police officer comes over, blowing his whistle hard.

“Hey, cart driver! What are you doing here? What’s your name? Shall I give you a ticket?”

“Sir…”

“Sir, my ass! Off to the police station, sir. This is nothing. All right, go, I’ll let you off this time.”

The cart driver quickly drives off. A white man is coming, a A white man is coming down the road, a hat on his head cocked to the side, a rattan parasol in his hand, sweat on his cheeks and lips. He asks the cart driver, “Take me to the cantonment.”

“Eight aane, sir.”

“Well, six aane.”

“No, sir.”

“What nonsense are you saying!”

The white man beats the cart driver so hard with his umbrella that it breaks. People are gathering and then a police officer arrives.

“Bastard, bastard, beg for forgiveness from the gentleman!”

The cart driver is wiping tears from his eyes with a corner of his dirty turban. The crowd disperses. The road is desolate once again.

Electric lights turn on in the evening haze and I can see some manual laborers near the courthouse, their hair disheveled and their clothes filthy. They are talking.

“Brother, were you able to get him admitted?”

“Yes. Are you getting’ a good salary?”

“Yes, I’m making enough money to improve things, my wife used to always have to wear ripped saris.”

“I hear a war’s about to start.”

“When’ll it start?”

“When! I dunno, but it’s gonna start because of poor people like us.”

“Who knows who’s gonna start it, poor or rich. How’s your kid?”

“We can’t get rid of his fever, we dunno what to do. On one hand, we have no money. On the other hand, we need medicine from the doctor. We’re thinking of admitting him into the hospital.”

“Oh, Lord Ram!”

Torn dhotis, bare feet, weary steps, what kind of people are these? They don’t want freedom, these strange words are so surprising, stomach, hunger, illness, money, medicine from the doctor, war.

The pale yellow light of electric lights pools on the road. Two women, one old, one young, are carrying huge baskets of apples like mules. The young woman’s pace is quick.

“Daughter, slow down a bit.” The old woman’s face has countless wrinkles. Her pace is slower, her voice is full of helplessness. “Daughter, slow down a bit, I’m tired, oh Lord!”

“Mom, why don’t you go home and make some rotis. You’re crazy!”

“All right, daughter. Okay,” the old woman starts to run behind the young woman. Her legs are shaking because of the load. Her feet are trembling. She walks with so much effort down the road, carrying her burden of apples. No one lightens her load. No one gives her a moment of rest. She keeps running. Her legs are trembling, her feet are shaking. Sadness is in her wrinkles. And hunger, worry, and slavery, centuries of slavery. Three or four fresh young women wearing splendid, glittering saris and arm ornaments walk along the road.

“Sister! Let’s travel to the Shimla hills today.”

“No, let’s go to Lawrence Garden today.”

“No, Anarkali Bazar. Regal Cinema.”

Shut up, you fool.

Today a red carpet is spread on the road. Flags are hanging all around and policemen are standing here and there. Some important man is coming.Little schoolboys with blue turbans stand in two lines on either side of the road. They have little flags in their hands. Their lips are parched. Their faces shine from the harsh sun. They stand in this way for an hour. Soon they have been waiting for this important main for an hour and a half. When they first got to the road, they were laughing and talking. Now they are silent. A few boys sit down in the shade of a tree, but their teacher drags them back in line by their ears. A boy, Shafi, takes off his turban. The teacher stares angrily at him.

“Oh, Shafi! Fix your turban!”

Pyare Lal’s pants are stuck around his feet and the drawstring of the pants are hanging on his shoes.

“How many times do I have to tell you, Pyare Lal!”

“Mr. Teacher, water, water!”

“Where am I going to get water from. What, you all think this is your house or something?! Just wait for two or three more minutes, then you’ll have your break.”

Two minutes. Three minutes. Half an hour.

“Mr. Teacher, water.”

“Mr. Teacher, we’re really thirsty.”

But the teacher does not pay attention. He is running back and forth, here and there. “Oh, boys, look smart! Wave your flags like this, ah, where is your flag. Yes, get out of line, you little scoundrels.”

A traveler is coming. The put-put of motorcycles, the roar of the band, the thin, small flags half-heartedly moving. Dejected hurrahs from dry throats. The important man passes by. The lifeless boys light up. Now they are jumping, practically breaking their flags, and making lots of noise.

A man carrying a tray touts his wares. “Rewari! Hot hot roasted chickpeas! Halwa, puri! Naan! Kababs!” The touter collides with a rich man. They start to fight. “You overturned my tray! I won’t let you go! You ruined three rupees worth of my goods! I am poor man, pay me for the damages, and I’ll let you go.”

In the faint morning light, a sweeper is cleaning the road. The municipality water man is driving his cart slowly and sprinkling water on the road. The two bulls yoked to the cart are covered in new wounds. The water man shivers in the cold and tries to sing a song. The bulls look to see how much more of the road is left. Lying on the edge of the road is an old beggar, freshly dead. His filthy teeth have collapsed inside his lips. His open, lightless eyes stare towards the sky.

For God’s sake, have pity on poor people like me. Oh, sir. No one has pity. The road is silent and desolate. The road sees and hears. But it does not have any feeling or tears. Like people’s hearts, it is merciless, evil, and obscene.

I often think with fury that if I blew it up with dynamite, what would happen. With one big explosion, all the little pieces would be seen flying to their death. I would be so happy, you have no idea. Sometimes as I walk on that expanse, I go crazy. I know that at that moment I would rip off my clothes, dance and yell at people, saying, “I am not a human, I am crazy, I hate humans, please put me in the chains of an insane asylum… I do not want to be free out on the roads.

**********

The road is silent and desolate

On the high branches vultures sweetly sleep

This is the two furlong length road

No comments yet.

Leave a Reply